Gar Hameñ Zauq e Talab Sa Rahnuma Milta Nahiñ
Written by Huzoor Taajush Shariah Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaگر ہمیں ذوقِ طلب سا رہنما ملتا نہیں
رستہ ملता نہیں اور مدّعا ملتا نہیں
جھک کے مہر و ماہ گویا دے رہے ہیں یہ صدا
دوسرا میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ابغُو فرما کے گویا ربّ نے یہ فرما دیا
بے وسیلہ نجدیو؛ ہرگز خدا ملتا نہیں
ان سے امیدِ وفا اے دل محض بے کار ہے
اہلِ دنیا سے محبت کا صلہ ملتا نہیں
کس نے تجھ سے کہہ دیا دل بے غرض آتے ہیں وہ
بے غرض ناداں کوئی بے وفا ملتا نہیں
دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنے بیگانے ہوئے
اب تو ڈھونڈے سے بھی کوئی آشنا ملتا نہیں
لو لگاتے کیوں نہیں بابِ شہہِ کونین سے
ہاتھ اٹھا کر دیکھ تو پھر اُن سے کیا ملتا نہیں
تیرے میخانے میں جو کھینچی تھی وہ مے کیا ہوئی
بات کیا ہے آج پینے کا مزہ ملتا نہیں
ساقیا تیری نگاہِ ناز مے کی جان تھی
پھیر لی تو نے نظر تو وہ نشہ ملتا نہیں
پینے والے دیکھ پی کر آج اُن کی آنکھ سے
پھر یہ عالم ہوگا کہ خود کا پتا ملتا نہیں
اخترِ خستہ عبس در بدر پھرا کرتا ہے تو
جُز درِ احمد کہیں سے مدّعا ملتا نہیں