Back to Collection

Haqeeqat Aapke Haq Jaanta He

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

حقیقت آپ کے حق جانتا ہے

وہ وہم و فہم سے آقا ورا ہے

کچھ ایسا آپ کو حق نے بنایا ہے

کہ خود وہ آپ کا طالب ہوا ہے

بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے

کہ عرشِ حق بھی تیرے زیرِ پا ہے

جو اوروں کے علوم کا انتہا ہے

وہ سرکاری علوم کا ابتدا ہے

خدا کی ذات تک تو ہی رسا ہے

کسی کا بھی یہ عالی مرتبہ ہے

نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے

نہ اے آقا کوئی تم سا ہوا ہے

ملائک میں، رسل میں، انبیا میں

کوئی عرشِ علاں تک بھی گیا ہے

تعال اللہ تیری شانِ عالی

جلالتِ شان کی کیا انتہا ہے

نکالی زرقِ خورشید ڈوبی

اشارے سے قمر ٹکڑے کیا ہے

نہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا

بس اک اللہ ہی تم سے سوا ہے

تیری صورت سے ہے حق آشکارا

خدا بھاتی تیری ہر ہر ادا ہے

نہیں ہو سکتا تجھ سا کوئی باہر

کہ تو ہی مبتدا و منتہا ہے

تو ہی نورِ خدا پھر سایہ کیسا

کہیں بھی نور کا سایہ پڑا ہے

تو ہی ظلِ خدا، واللہ باللہ

کہیں سائے کا بھی سایہ پڑا ہے

زمین پر تیرا سایہ کیسے پڑتا

تیرا منسوب ارفَع دائمًا ہے

خدا کا فضلِ اعظم آپ پر ہے

سکھا سب کچھ تمہیں حق نے دیا ہے

نہ منت تم پہ استادوں کی رکھی

تمہارا اُمّی ہونا معجزہ ہے

ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے

ہوا جو ہوگا، جو کچھ ہو رہا ہے

نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے

نہ کوئی راز پوشیدہ رہا ہے

چھپا تم سے رہے کیوںکر کوئی راز

خدا بھی تو نہیں تم سے چھپا ہے

مسلّط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا

نبی او مجتبیٰ او مرتضیٰ ہے

تیری مرضی رضاِ حق ہے مولا

رضاِ حق تیری مرضی شاہا ہے

گذر تیرا ہوا ہے جس گلی سے

تیری خوشبو سے ہر ذرہ بسا ہے

درودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ

ہماری، حق سے، یہ ہر دم دعا ہے

درود اُس پر ہو جِس پر حَق دُرودیں

بہر لمحہ، بہر دم، بھیجتا ہے

سلام اُس پر جو ہے مطلوب رب کا

سلام اُس پر جو محبوبِ خدا ہے

سلام اُس پر یہ بحر و بر ہیں جس کی

سلام اُس پر جو شاہِ دو سرا ہے

جس آقا کے ملائیک ہیں سلامی

جو شاہِ کرسی و عرشِ علا ہے

خدا کی سلطنت کا جو ہے دولھا

سلام اُس پر جو رحمت کا بنا ہے

جسے سنگ و شجر تسلیم کرتے

سلام اُس پر جو ایسا بادشاہ ہے

سلام اس پر جو اول ہے رسل کا

سلام اس پر جو ختم الانبیاء ہے

سلام اول کا اول پر ہمیشہ

سلام باقی ہو جب تک بقا ہے

سلام آخر کا آخر پر ہو دائم

نہ بس عالم ہی تک جس کو فنا ہے

سلام ظاہر و باطن ہو اس پر

جو ظاہر ہو کے باطن ہو گیا ہے

سلام اے جان رحمت کان رحمت

سلام اے کہ وہ شان حق نما ہے

رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر

میرے پیارے یہ دل کا مدعا ہے

رہے پیشِ نظر وہ روئے انور

ترستی آنکھوں کی یہ التجا ہے

شرابِ دید سے دل شاد کیجیے

ہمارے درد کی یہ ہی دوا ہے

یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانا

یہاں شاہ و گدا سب کا ٹھیا ہے

دمِ آخر تو آجا جانِ عیسیٰ

ہیں ساقط نبضیں گھنگر بولتا ہے

دمِ آخر چلے آؤ خدارا

دکھادو مرنے والا جی رہا ہے

تیرے قدموں میں جس کو موت آئی

حیاتِ جاویداں اس کی قضا ہے

ہٹؔا دیجے رخِ انور سے گیسو

اندھیرا قبر کا کالی بلا ہے

دکھا دیجے شہا پرنور چہرہ

صفت میں جس کی وشمس اور ضحیٰ ہے

سنگھا دیجے ہمیں وہ زلف مشکیں

صفت میں جس کی واللیل سجاہے

تیرے قربان اے زلفِ معنبر

ہمارے سر ہجومِ بد بلا ہے

میرے سر سے بلائیں دور فرما

بلائوں میں یہ بندہ مبتلا ہے

نحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں

بہت صبر آزما یہ ابتلا ہے

پریشاں ہوں پریشانی کرو دور

بلائوں میں یہ بندہ مبتلا ہے

نہ کیجے دور ہم کو اپنے در سے

پڑا رہنے دو جو در پر پڑا ہے

شہیدِ کربلا کا صدقہ دے دے

تو شاہا دفعِ کرب و بلا ہے

پریشاں ہوں پریشانی کرو دور

پریشاں سا پریشاں دل میرا

پریشانیِ وطن کی یاد کر کے

پریشاں دل، ابھی سے ہو رہا ہے

پریشانی ہے گوناگوں وطن میں

پریشاں ان کو فرما دو تو کیا ہے

یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے

جہاں آرامِ جاں و دل میرا ہے

میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں

یہاں بس یہ تفکر ہو رہا ہے

رموزِ مصلحت سرکار جانے

اگر واپس ہی فرمانا بھلا ہے

مگر اتنی گزارش کی اجازت

یہ بندہ دست بستہ چاہتا ہے

ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا

یہی مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے

کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے

یہیں پر مرنے جینے میں مزہ ہے

قیامت ہے، قیامت ہے، قیامت

جدھر دیکھو، ادھر محشر بپا ہے

زمین تانبے کی ہے، سورج سروں پر

تپش سے بھیجا سر میں کھولتا ہے

ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر

عرق اتنا بہا، دریا بہا ہے

زبانیں سوکھی ہیں، کانٹے چبے ہیں

آتش سے حال ابتر ہو رہا ہے

کلیجے منھ کو آۓ دم گھٹے ہیں

الٹ کر دل گلے میں آ رہا ہے

سراپا کوئی تو غرق عرق ہے

کسی کی منھ تک آ کر رہ گیا ہے

تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر

کوئی گر کر زمیں پر لوٹتا ہے

مثالِ ماہی بے آب کوئی

کوئی جل جل کباب سوختہ ہے

عجب یہ کسمپرسی کا ہے عالم

जिसे دیکھو بھڑکتا بھاگتا ہے

زن و شو میں نہیں باقی تعارف

نہ بھائی بھائی کو پہچانتا ہے

نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاور

کہیں کس سے کہ کیسا ماجرا ہے

برے احوال ہیں اس روز اُف اُف

بہت احوال بہ کا سامنا ہے

کوئی کانپے کوئی کانپنے کرا ہے

کوئی روتا کوئی چلا رہا ہے

ہے دار و گیر کا ہنگامہ برپا

بہت سخت آفتوں کا سامنا ہے

رسول بھی نفسی نفسی کہہ رہے ہیں

حمایت کا کسے اب آسرا ہے

بندھیگی آس اپنی بعد ہر یاس

اسی سے جو ہمارا آسرا ہے

اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر

وہ جس کا نامِ نامی مصطفیٰ ہے

شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا

وہی اس بزم کا دولھا بنا ہے

چلو اے آسیو! کیوں کر’ہ رہے ہو

وہ محبوبِ خدا جلوہ نما ہے

ملول اے غمزد و تم کس لیے ہو

وہ پیارا مصطفیٰ جب غمزدہ ہے

سنیں گے سننے والے اِذْھَبُو، کے

زبانِ پاک پر اِنّی لَحَا ہے

مظالم کر لیں جتنے ہوویں ظالم

نہ کر غم نوری، کہ اپنا بھی خدا ہے