Jaan e Imaañ He, Muhabbat Teri
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaقفس جسم سے چھوٹتے ہی، یہ پرراں ہوگا
مرغِ جاں، گنبدِ خضرا پہ، غزل خواں ہوگا
روز و شب مرقدِ اقدس کا، جو نگراں ہوگا
اپنی خوش بختی پہ، وہ کتنا، نہ نازاں ہوگا
اس کی قسمت کی قسم، کھائیں فرشتے، تو بجا
عید کی طرح، وہ ہر آن میں، شاداں ہوگا
اس کی فرحت، پہ تصدق ہوں، ہزاروں عیدیں
کب کسی عید میں، ایسا کوئی، فرحاں ہوگا
چمنِ طیبہ میں تو، دل کی کلی، کھلتی ہے
کیا مدینہ سے سوا، روضۂ رضواں ہوگا
وہ گلستاں ہے، جہاں آپ ہوں، اے جانِ جناں
آپ صحرا میں اگر آئیں، گلستاں ہوگا
آپ آ جائیں چمن سے تو چمن جانِ چمن
خاصہ اک خاک بسر دشتِ مغیلاں ہوگا
جانِ ایماں ہے محبت تیری جانِ جناں
جس کے دل میں یہ نہیں، خاک مسلماں ہوگا
دردِ فرقت کا مداوا نہ ہوا اور نہ ہو
کیا طبیبوں سے میرے درد کا درماں ہوگا
جس نے تبرید بتائی خفقاں ہوگا اسے
کیا ٹھنڈک سے علاجِ تبِ ہجراں ہوگا
کوہر بائی نہ ہو کیوں رنگ میرے چہرے کا
جتنا ایقاں بڑھا، اتنا ہی ترسا ہوگا
نورِ ایماں کی جو مشعل رہے روشن پھر تو
روز و شب مرقدِ نوری میں چراغاں ہوگا
ایک غزل، اور چمکتی سی، سنا دے نوری
دل جلا پائے گا میرا، تیرا احسان ہوگا