Kuch Aisa Kar De Mere Kirdigaar Aankhoñ Me
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaکچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
نہ کیسے یہ گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں
بسے ہوئے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں
کھلا ہے چار طرف لالہ زار آنکھوں میں
ہوا ہے جلوہ نما گل عذار آنکھوں میں
خزاں کے دور میں پھولی بہار آنکھوں میں
سرور و نور ہو دل میں بہار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئے نگار آنکھوں میں
وہ نور دے میرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں
نذر ہو قدموں پر اُن کے نثار آنکھوں میں
بنائیں اپنا ہوں وہ رہ گزار آنکھوں میں
نہ اِک نگاہ ہی صدقے ہو دل بھی قرباں ہو
کرم کرے تو وہ ناقہ سوار آنکھوں میں
بصر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
لگاؤں خاکِ قدم بار بار آنکھوں میں
تمھارے قدموں پہ موتی نثار ہونے کو
ہیں بے شمار میری اشک بار آنکھوں میں
نظر نہ آیا قرارِ دلِ حزیں اب تک
نگاہ رہتی ہے یوں بے قرار آنکھوں میں
اُنھیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
نظر میں کیسے سماویں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے
جو نقشِ پا کا لگاؤں غبار آنکھوں میں
ملے جو خاکِ قدم اُن کی مجھ کو قسمت سے
لگاؤں سرمہ نہ پھر زِینہار آنکھوں میں
مدینہ جائے چمن اور خزاں سے ایمن ہے
لگائے خاک وہاں کی ہزار آنکھوں میں
کھلے ہیں دیدۂ عشاق خوابِ مرگ میں بھی
کہ اُس نگار کا ہے انتظار آنکھوں میں
خزاں کا دور ہوا دور، وہ جہاں آئے
ہوئی ہے قدموں سے اُن کے بہار آنکھوں میں
یہ اشتیاق تیری دید کا ہے جانِ جہاں
دم آ گیا ہے دمِ اختصار آنکھوں میں
یہ آسمان کے تارے یہ نرگسِ شہلا
تیرا ہی جلوہ ہے ان بے شمار آنکھوں میں
یہ دم ہمارا کوئی دم کا اور مہماں ہے
کرم سے لیجئے دم بھر قرار آنکھوں میں
وہ سبز سبز نظر آ رہا ہے گنبدِ سبز
قرار آ گیا یوں بے قرار آنکھوں میں
بہارِ دنیا ہے فانی نظر نہ کر اس پر
ہے کوئی دم کی یہ ساری بہار آنکھوں میں
یہ گل یہ غنچے یہ گلشن کے بیل اور بوٹے
انہیں کے دم کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
یہ حالِ زار ہے فرقت میں تیرے مضطر کا
کہ اشک آتے ہیں بے اختیار آنکھوں میں
وہی مجھے نظر آئیں جدھر نگاہ کروں
انہیں کا جلوہ رہے آشکار آنکھوں میں
یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھوں میں نہ آ جائے
کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں
نہ ایسے پھول کھلے ہیں کبھی نہ آگے کھلیں
بہاروں میں ہے عرب کی بہار آنکھوں میں
قریب ہے رگِ گردن سے پر جدا ہے وہ
نہ یار دل میں مکیں ہے، نہ یار آنکھوں میں
یہ قرب اور یہ دوری خدا کی قدرت ہے
کہ ہوگا خلد میں دیدارِ یار آنکھوں میں
کرم یہ مجھ پہ کیا ہے میرے تصوّر نے
کہ آج کھینچ دی تصویرِ یار آنکھوں میں
فرشتو پوچھتے ہو مجھ سے کس کی امت ہو
لو دیکھ لو یہ ہے تصویرِ یار آنکھوں میں
نہ صرف آنکھیں ہی روشن ہوں دل بھی بینا ہو
اگر وہ آئیں کبھی ایک بار آنکھوں میں
ہزار آنکھیں ہیں تاروں کی اک گلِ مہتاب
یہ ایک پھول ہے، جیسے ہزار آنکھوں میں
یوں ہی ہیں ماہِ رسالت بھی سب نبیوں میں
کروڑ آنکھوں نہیں بے شمار آنکھوں میں
یہ کیا سوال ہے مجھ سے، کہ کس کا بندہ ہے
میں جس کا بندہ ہوں، ہے نور بار آنکھوں میں
ہے آشکار نظر میں جہاں کی نیرنگی
جما ہے نقشہء لیل و نہار آنکھوں میں
جما ہوا ہے تصوّر میں روضۂ والا
بسے ہوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں
نہار چہرۂ والا، تو گیسو ہیں والّیل
بہم ہوئے ہیں یہ لیل و نہار آنکھوں میں
پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوری
ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں
دیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوری
ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں