Kya Kahuñ Kaise Haiñ Pyaare Tere Pyaare Gaisoo
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaکیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارض ہیں ضحیٰ، لیل کے پارے گیسو
دستِ قدرت نے تیرے آپ سنوارے گیسو
حور سو ناز سے کیوں ان پہ نہ وارے گیسو
خاکِ طیبہ سے اگر کوئی نکھارے گیسو
سنبلِ خلد تو کیا، حور بھی ہارے گیسو
سنبلِ طیبہ کو دیکھے جو سنوارے گیسو
سنبلِ خلد کے رضواں بھی نثارے گیسو
کس لیے عنبرِ سارہ نہ ہوں سارے گیسو
گیسو کس کے ہیں، یہ پیارے ہیں تمہارے گیسو
ہوں نہ کیوں رحمتِ حق، حق میں ہمارے گیسو
گیسو اے جانِ کرم ہیں یہ تمہارے گیسو
یہ گھٹا جھوم کے کعبہ کی فضا پر آئی
اڑ کے یا ابرو پہ چھائے ہیں تمہارے گیسو
ماہِ تاباں پہ ہیں رحمت کی گھٹائیں چھائیں
روئے پرنور پہ یا چھائے تمہارے گیسو
سر بسجدہ ہوئے محرابِ خمِ ابرو میں
کعبۂ جاں کے جو آئے ہیں کنارے گیسو
نیرِ حشر ہے سر پر، نہیں سایہ سرور
ہے کڑی دھوپ کریں سایہ تمہارے گیسو
سوکھ جائے نہ کہیں کشتِ عمل اے سرور
بوندیاں لکہۂ رحمت سے اتارے گیسو
اپنی زلفوں سے اگر نعلِ مبارک پونچھے
رضوان برکت کے لیے، حور کے دھارے گیسو
گرد جھاڑی ہے تیرے روضے کی بالوں سے شہا
مشک بو کیسے نہ ہوں آج ہمارے گیسو
اب چمکتی ہے سیاہ کارو تمہاری قسمت
لو، جھکے اذن کے سجدے کو وہ پیارے گیسو
پیش مولائے رضا جو ہیں جھکے سجدے میں
کرتے ہیں بخشش امت کے اشارے گیسو
پھوار مستوں پہ تیرے ابر کرم کی برسے
ساقیا کھول ذرا حوض کنارے گیسو
سایہ بھی چاہئے ہے مستوں کو، دو چھینٹے میں
کاش ساقی کے کھلیں حوض کنارے گیسو
عنبرستاں بنے محشر کا وہ میدان سارا
کھول دے ساقی اگر، حوض کنارے گیسو
بادہ و ساقی لب جو تو ہیں پھر ابر بھی ہو
ساقی کھل جائیں تیرے حوض کنارے گیسو
یہ سر طور سے گرتے ہیں شرارے نوری
روئے پر نور پہ یاں واریں ہیں تارے گیسو