Laa Ilaaha Il’l-Allah
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaفری فرام ٹائم اینڈ ڈائریکشن از ہی
فری فرام ابھورنس ان ایٹریبیوٹس از ہی
لا موجود الا اللہ،
لا مشہود الا اللہ
ہے موجودِ حقیقی وہ،
ہے مشہودِ حقیقی وہ
ھُو، ھُو، ھُو، ھُو، ھُو، ھُو،
ھُو، ھُو، اللہُو، ھُو، اللہُو
حق ھُو، حق ھُو، حق ھُو، حق
رَبِّ ناس و رَبِّ فلق
أنت الھادی أنت الحق،
رنگِ باطل اس سے فق
رَبِّ حَسْبِی جَلَّ اللہ
ما فِی قَلْبِی اِلَّ اللہ
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ
لَیْسَ لَہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
لَیْسَ الْھَادِی اِلَّاھُو
کہتا ہے یہ ہر بنِ مو
بن کو بنایا ہے اس نے
بن کو جمایا ہے اس نے
اللہُ اِلٰہ و رَبُّ اَحَد
فَرْد و واحد، وِتْر و صَمَد
ایک حقیقی ہے وہ اَحَد
ایک نہیں وہ جو ہے عَدَد
منعم و حق و سمیع و بصیر،
باقی، باری، برّ و خبیر
حکم و عدل و علیّ و عظیم،
دَیّان و رحمان و رحیم
والی، ولی، متعالی، حکیم؛
وھّاب و رزّاق و علیم
وہی عزیز و مجیب، شکور
وہی بدیع و قریب، صبور
وہی مقدّم اور غفّار
وہی مہیمن اور جبّار
نور، مصوّر اور ظاہر
باطن، اوّل اور آخر
تواب و مغنی، ہادی
مقسط، محیی، ممیت، غنی
مبدی و جلیل و حفیظ و مجید
معطی و وکیل و سلام و معید
وہ ہی جواد و عفو و عطوف
ازلی، ابدی ہے معروف
وہ ہی محیط انس و جاں
وہ ہی محیط جسم و جاں
وہ ہی مقیت و معز و مذل
وہ ہی حفیظ و نصیر اے دل
مادے اس نے پیدا کیے
اس کے امر کن سے بنے
قابِض و باعِث، خالِق ہَے،
خافِض و وارِث، رازِق ہَے
کوئی نہ اُس سا سابِق ہَے،
کوئی نہ اُس سے لاحِق ہَے
سَب ہیں حادِث، وہ ہَے قَدِیم،
کوئی نہیں ہَے اُس کا نَدِیم
ایک ہی ہَے وہ بے شک ایک،
بندہ اُس کا ہَر بُد و نِیک
ساجھی نہ اُس کا کوئی شَریک،
وہی مالِک ہَے، وہی مَلیک
وہ ہَے مُنَزَّہ شِرکَت سے،
پاک سکون و حَرَکت سے
اِک وجودِ حَقِیقِی تھا،
غَیر سراسر فانی ہوا
باقی وجودِ حَقِیقَت تھا،
باقی یکسر منفی ہوا
ہَر، ہَر ذَرّہ، ہَر قطرہ،
شاہد ہے ہَر ہَر لمحہ،
اللہ واحد و یکتا ہے،
اِک خدا بس تنہا ہے،
اِک نہ ہوتا گر اللہ،
کیسے رہتے ارض و سما
سوتا، پیتا، کھاتا نہیں،
اس کا رشتہ ناتا نہیں
جہل و ظلم و کذب و زنا،
خواری، مے خواری، سرقہ
روح نہیں ہے وہ نہ جسیم،
مقسم ہے وہ نہ قسم و قسیم
ہے وہ زمان و جہات سے پاک،
وہ ضمیم صفات سے پاک
پاک ہے عیبوں سے مولیٰ
عیب کو اس سے تعلق کیا
روشن ہے یہ جیسے دن
اس کا تلوث نہ ممکن
من اصدق منہ قیلا
من اصدق منہ حدیثا
صدقِ ربّ جب واجب ہے
کذب محال اے خائب ہے
اس کا خائب او منکر
اور غرائے او کافر
میں ہوں بندہ وہ مولیٰ
کون ہے اپنا اس کے سوا
چار عناصر پیدا کیے
جو سب आपस میں ضد تھے
آنکھوں میں وہ ہے، سر میں وہ
دل میں وہ ہے، جگر میں وہ
نور میں وہ ہے نظر میں وہ
شمس میں وہ ہے قمر میں وہ
پروانہ میں، پر میں وہ
شمع میں وہ ہے، شرر میں وہ
تخم میں وہ ہے، شجر میں وہ
شاخ میں وہ ہے، ثمر میں وہ
ساز میں وہ ہے، ساز میں وہ
ناز میں وہ انداز میں وہ
تو میں وہ ہے، من میں وہ
جان میں وہ ہے تن میں وہ
جز میں وہ ہے، کل میں وہ
رنگ و بوئے گل میں وہ
قرب و لقائے وصل میں وہ
بعد و فراق و فصل میں وہ
فتح و ضم و جر میں وہ
پیش و زیر و زبر میں وہ
بلبل طوطی پروانہ
ہر ایک اس کا دیوانہ
شمع و گل و سرو و صراط
ہیں مرآت لحاظِ ذات
خود گلِ کوزہ و کوزہ گر
خود کوزہ و خود کوزہ بر
جلوے اس کے ہیں ہر جا
ذات ہی اس کی جا سے ورا
نت نئے جلوے ہیں ہر آن
کلَّ یومٍ ہو فی شان
ہر دل میں ہے اُس کی لگن
آنکھوں میں وہ ہے نور افگن
سرو و سنبل اور سمن
شمشاد و صنوبر اور سوسن
اپنے کرم سے ربِّ کریم،
ہم پہ کیے احسانِ عظیم
اپنے مظہرِ اوّل کو
اپنے حبیبِ اجمل کو
وہ جنہیں انفاس فرمایا
بہتر، برتر، اعلیٰ کیا
ایسی فضیلتیں اُن کو دیں
جن کا مثل امکان میں نہیں
نائبِ حضرتِ حقِ متیں
شاہنشاہِ چرخ و زمیں
موجِ اول بحرِ قدم
موجِ آخر بحرِ کرم
جن کو بنایا اپنے لیے
سب کو بنایا جن کے لیے
نور سے اپنے پیدا کیا،
نورِ حبیبِ ربِ اعلیٰ
ذات کا اپنی آئینہ
بے مثل و نظیر و بے ہمتا
جب حق کو ہوا یہ منظور
عالم پر فرمائے ظہور
قالب آدم خلق کیا
روح در آۓ حکم ہوا
آدم و عالم پیدا ہوۓ
نور سے سارے ہویدا ہوۓ
لوح جبین سیدنا
آدم میں وہ نور خدا
نور خدا کی برکت تھی
رہنے کو جنت پائی
حق نے علم اسماء دیا
جو نہ ملائک کو بخشا
آدم کو شرف ایسا ملا
آدمی اشرف خلق ہوا
واسطہ یہ اُس نور کا تھا
حضرتِ انساں قبلہ بنا
پاک گروہِ مقدّس کا
اِک علّامہ معلّم تھا
جب سجدہ کا حکم ہوا
سب نے کیا، اُس نے نہ کیا
اُسکو آب و گل سوجھا
منکر ہو کر شیطان بنا
یاری جو نور نہیں کرتا
دیکھتے کیسے فوقِ سماں
جوش پر آیا رحم کا دریا
جب سیدنا آدم نے دیا
جب حضرت کا جی نہ لگا
تنہائی سے گھبرا اٹھا
حوا سے جب آدم کا
عہد مہر درود ہوا
پیشانی شیت میں آیا
صلبوں رحموں میں ہوتا
حضرت نور نجی اللہ
آدم ثانی عالم کا
ابراہیم خلیل اللہ
آگ میں جن کو ڈالا گیا
طاہر صلبوں میں ہوتا
پاک ارحام میں رہتا ہوا
آمنہ نے یہ فرمایا
حمل کی کلفت تھی نہ ذرا
ماہِ اول میں آدم
دوسرے میں ادریس افخم
پانچویں میں اسمٰعیل
چھٹے میں کلیم جلیل
ماہِ نہم حضرت عیسیٰ
آئے مجھ کو مژدہ دیا
سن لو! جب یہ نورِ خدا
پیدا ہو تو تم اس کا
اور کسی نے یہ بھی کہا
خواب میں مجھ سے آمنہ
پیٹھ میں تھے جب یہ سرکار
اس سے پہلے کے اذکار
بے ساز و برگِ کے سوا
کوئی پھلا اور پھولا نہ تھا،
قوم مصائب کی تھی شکار
اور آفتوں سے تھی دو چار
مولا دل کا زنگ چھڑا
قلبِ نوری پائے جلاء