Back to Collection

Maah e Ajam Mehr e Arab

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

ہے تم سے عالم پُر ضیا، ماہِ عجم مہرِ عرب

دے دو میرے دل کو جلا، ماہِ عجم مہرِ عرب

دونوں جہاں میں آپ ہی، کہ نور کی ہے روشنی

دنیا و عقبٰی میں شہا، ماہِ عجم مہرِ عرب

کب ہوتے یہ شام و سحر، کب ہوتے یہ شمس و قمر

جلوہ نہ ہوتا گر تیرا، ماہِ عجم مہرِ عرب

شام و سحر کے قلب میں، شمس و قمر کی آنکھ میں

جلوہ ہے جلوہ آپ کا، ماہِ عجم مہرِ عرب

ہے رُو سیاہ مجھ کو کیا، آقا میرے اعمال نے

کر دو اجالا منھ میرا، ماہِ عجم مہرِ عرب

خورشیدِ تاباں بھیک کو، آیا تیری سرکار سے

ہے نور سے کاسہ بھرا، ماہِ عجم مہرِ عرب

خورشید کے سر آپ کے، در کی گدائی سے رہا

صحرا شہا انوار کا، ماہِ عجم مہرِ عرب

کاسہ لئیسی سے تیرے، دربار کی، مہتاب بھی

کیسا منور ہوگیا، ماہِ عجم مہرِ عرب

ہیں یہ زمین و آسمان، منگتا اسی سرکار کے

ہے ان کی آنکھوں کی ضیاء، ماہِ عجم مہرِ عرب

یوں بھیک لیتا ہے، دو وقتہ، آسمان انوار کی

صبح و مسا ہے جبہ سا، ماہِ عجم مہرِ عرب

اس جبہ سائی کے سبب، شب کو اسی سرکار نے

انعام میں ٹیکہ دیا، ماہِ عجم مہرِ عرب

اور صبح کو سرکار سے اس کو ملا نوری صلا

عمدہ سا جھومر پر ضیاء، ماہِ عجم مہرِ عرب

جب تم نہ تھے کچھ بھی نہ تھا، جب تم ہوئے، سب کچھ ہوا

ہے سب میں جلوہ آپ کا، ماہِ عجم مہرِ عرب

ایک ظلمتِ عصیٰں شہا، اس پر اندھیرا قبر کا

کر دے ضیا بدرالدجیٰ، ماہِ عجم مہرِ عرب

بر تو شود از نورِ ربّ، باراںِ نوری روز و شب

ہو تا ابد یہ سلسلہ، ماہِ عجم مہرِ عرب

ہو مرشدوں پر نورِ جاں، بارش تمہارے نور کی

اور ان سے پائے یہ گدا، ماہِ عجم مہرِ عرب

بے شک ہے عاصی کے لیے، ناری صلا لیکن شہا

نوری کو دو نوری جزا، ماہِ عجم مہرِ عرب