Nigaah e Mehr Jo Us Mehr Ki Idhar Ho Jaa-e
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaنگاہِ مہر جو اس مہر کی ادھر ہو جائے
گناہ کے داغ مٹیں دل میرا قمر ہو جائے
جو قلب تیرہ پہ تیری کبھی نظر ہو جائے
تو ایک نور کا بقعہ وہ سر بسر ہو جائے
ہماری کشتِ عمل میں کبھی تو پھل آئے
کبھی تو شجرۂ امید بارور ہو جائے
کبھی تو ایسا ہو یا رب وہ در ہو اور یہ سر
کبھی تو ان کی گلی میں میرا گزر ہو جائے
ہمارے سر ہوں خدایا حبیب کا در ہو
ہماری عمر الہی یوں ہی بسر ہو جائے
جو سچے دل سے کہے کوئی یا رسول اللہ
مصیبتیں بھی ٹلیں ہر مہم بھی سر ہو جائے
مری مصیبتوں کا سلسلہ ابھی کٹ جائے
اشارہ ابروِ خم دار کا اگر ہو جائے
تڑپ رہے ہیں فراقِ حبیب میں عاشق
الٰہی! راہ مدینہ کی بے خطر ہو جائے
تیرے غضب سے ہوں غارت یہ دہر کے شیطان
بنے غلام ہر اک ان میں دربدر ہو جائے
جو آپ چاہیں تو ہیزم کو دم میں سبز کریں
کرم جو آپ کا ہو خلد کا شجر ہو جائے
خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے
جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک ابھی تر ہو جائے
عیاں ہے دبدبہ تیرا سماوات و سواح سے
ہماری کھیتی بھی سوکھی ہے پیارے تر ہو جائے
جو کاسۂ تاج کا لے کر تمہارے در پر آئے
تو بادشاہ حقیقت میں تاجْور ہو جائے
تیرے گداؤں کے پا پوش تاجِ سلطاں ہیں
وہ جس کے سر پہ رکھیں نعل تاجْور ہو جائے
جو آپ ہوں میرے پلّے پہ پھر مجھے کیا ڈر
جِدھر نگاہِ کرم ہو خدا ادھر ہو جائے
جو خواب میں کبھی تشریف لائیں جانِ قمر
تو ان کے نور سے معمور سارا گھر ہو جائے
خدا نے قلبِ حقیقت تمہارے ہاتھ کیا
جو شاخ لڑنے کو دو تیغ اور تبر ہو جائے
جو وقتِ وزن گراں پلّا ہو گناہوں کا
شفاعت آپ کی اس دم مری سپر ہو جائے
اندھیری شب میں کرم سے تمہارے اے سرور
عصا صحابہ کا فانوسِ راہ ہو جائے
خدا نے غیب تمہارے لیے حضور کیا
جو راز دل میں چھپے ہوں، تمہیں خبر ہو جائے
وہ آئیں تیرگی ہو دور میرے گھر بھر کی
شبِ فراق کی یا ربّ، کبھی سحر ہو جائے
حجاب اٹھیں جو مرقد سے ان کے روضے تک
اندھیرا قبر کا مٹ جائے، دو پہر ہو جائے
تیرے حبیب کے دشمن ہیں اور خود تیرے
ہر ایک ان میں کافرِ نار وسقر ہو جائے
کنارِ عاطفتِ حاویہ میں ایک ایک جائے
جو ماں کی گوڈ میں بیٹھے، تو خوش پسر ہو جائے
سرپا آگ کے دریا میں ڈوب جائیں یہ
اگر حمیم کا دریا کمر کمر ہو جائے
چمک اٹھیں میری قسمت کا تارا اے نوری
اگر وہ غیرتِ خورشید میرے گھر ہو جائے