Saaya e Khayrul Wara Milta Nahiñ
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaدو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و ماہ پتہ ملتا نہیں
ہے رگ گردن سے اقرب، نفس کے اندر ہے وہ
یوں گلے سے مل کے بھی، وہ جدا ملتا نہیں
آب بحر عشق جاناں، سینے میں ہے موجزن
کون کہتا ہے ہمیں، آب بقا ملتا نہیں
آب تیغ عشق پی کر، زندہ جاوید ہو
غم نہ کر جو چشمہ آب و بقا ملتا نہیں
ڈوب تو بحر فنا میں پھر بقا پائے گا تو
قبل از بحر فنا، بحر بقا ملتا نہیں
دنیا ہے اور اپنا مطلب، بے غرض مطلب کوئی
آشنا ملتا نہیں، نا آشنا ملتا नहीं
ذرّہ ذرّہ خاک کا چمکا ہے جس کے نور سے
بے بصیرت ہے جسے وہ مہ لقا ملتا نہیں
ذرّہ ذرّہ سے عیاں ہے، ایسا ظاہر ہو کے بھی
قطرے قطرے میں نہاں ہے، برملا ملتا نہیں
جو خدا دیتا ہے ملتا ہے اسی سرکار سے
کچھ کسی کو حق سے اس در کے سوا ملتا نہیں
کیا علاقہ دشمنِ محبوب کو اللہ سے
بے رضاِ مصطفیٰ ہرگز خدا ملتا نہیں
کوئی مانگے یا نہ مانگے ملنے کا در ہے یہی
بے عطائے مصطفیٰ مدّعا ملتا نہیں
رہنماؤں کی سی صورت راہداری کام ہے
رہزن ہیں کو بہ کو اور رہنما ملتا نہیں
اہلِ گہلے ہیں مشائخ آجکل ہر ہر گلی
بے ہما و با ہما مردِ خدا ملتا نہیں
ہیں صفاِ ظاہری کے ساز و ساماں خوب خوب
جس کا باطن صاف ہو، وہ با صفا ملتا نہیں
بر زباں تسبیح و درِ دل گاؤ خر کا دور ہو
ایسے ملتے ہیں بہت اس سے ورا ملتا نہیں
بس یہی سرکار ہے اس سے ہمیشہ پا ئیں گے
دینے والے دیتے ہیں کچھ دن صدا ملتا نہیں
دور ساحل موج حائل پارا بیڑا کیجیے
ناؤں ہی منجدھار میں اور نہ خدا ملتا نہیں
وصلِ مولیٰ چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈ لو
بے وسیلہ نجدیو! ہر گز خدا ملتا نہیں
دامن محبوب چھوڑے مانگے خود اللہ سے
ایسے مردک کو خدا سے مدعا ملتا نہیں
ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ سے عیاں پھر بھی نہاں
ہو کے شہ رگ سے قریں تر ہے جدا ملتا نہیں
طائر جاں کی طرح دل اڑ کے جا بیٹھا کہاں
میرے پہلو میں ابھی تھا کیا ہوا ملتا نہیں
دہریا الجھا ہوا ہے دہر کے پھندوں میں یوں
سارا الجھا سامنے ہے اور سرا ملتا نہیں
علم صانع ہوتا ہے مصنوع سے لیکن اسے
دیکھ کر مصنوع صانع کا پتہ ملتا نہیں
نعمت کونین دیتے ہیں دو عالم کو یہی
مانگ دیکھو ان سے تم دیکھو تو کیا ملتا نہیں
سب سے پھر کر آئے ہیں اب شاہِ والا کے حضور
جُز تمہارے شافعِ روزِ جزا ملتا نہیں
درد مندی کے لیے آدم سے تا عیسٰی گئے
دے جو اپنے درد کی حاکمی دوا ملتا نہیں
جن سے امیدِ کرم تھی دے دیا سب نے جواب
آج کے کام آنے والا خسروا ملتا نہیں
یاس کا عالم ہے سب سے آس توڑّے آئے ہیں
ذاتِ والا کے سوا، اور آسرا ملتا نہیں
جل رہے ہیں پھنک رہے ہیں عاشقانِ سوختہ
دھوپ ہے اور سایۂ زلفِ رسا ملتا نہیں
وہ ہے خورشیدِ رسالت نور کا سایہ کہاں
اس سبب سے سایۂ خیرالوریٰ ملتا نہیں
دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دین کا
ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں
قاسمِ نعمت سے ہم مانگیں تو نجدی یوں بکیں
کیوں نبی سے مانگیے، اللہ سے کیا ملتا نہیں
مصطفےٰ ما جئتا الا رحمۃ للعالمین
چارہ ساز دوسرا تیرے سوا ملتا نہیں
خود خدا بے واسطہ دے، یہ ہمارا منہ کہاں
واسطہ سرکار ہیں بے واسطہ ملتا نہیں
ہم تو ہم، وہ انبیا کے بھی لیے ہے واسطہ
ان کو بھی جو ملتا ہے، بے واسطہ ملتا نہیں
انبیا، بعض اولیا فائز ہے اس سرکار سے
ہر ولی کو راستہ، بے واسطہ ملتا نہیں
دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی سرکار کا
خود خدا سے پائے جو ان کے سوا ملتا نہیں
زن، زمین و زور، اور زر کے ہیں گاہک ہر کہیں
دل سے جو ہو طالبِ ذکرِ خدا ملتا نہیں
چار زا، ایک زال کے بدلے میں لیں چوکَس رہے
یہ نہ سمجھے یہ اکائی سیکڑاً ملتا نہیں
دادِ دنیا کیسا، اُف سنتے نہیں فریاد بھی
سننے والا درد کا کوئی شَہَا ملتا نہیں
باپ، ماں، بھائی، بہن، فرزند و زن، اک اک جدا
غمزدہ ہر ایک ہے، اور غمزدہ ملتا نہیں
جو محب کی چیز ہے، محبوب کے قبضے میں ہے
ہاتھ میں ہو جس کے سب کچھ، اس سے کیا ملتا نہیں
دل ستانی کرنے والے ہیں ہزاروں دلربا
دل نوازی کرنے والا دلربا ملتا نہیں
دل گیا اچھا ہوا، اس کا نہیں غم؛ غم ہے یہ،
لے گیا پہلو سے جو، وہ دلربا ملتا نہیں
محی سنت، حامی ملت، مجدد دین کا
پیکر رشد و ہدی احمد رضا ملتا نہیں
بے نوا کو بے صدا ملتا ہے اس سرکار سے
دودھ بھی بیٹے کو ماں سے بے صدا ملتا نہیں
کس طرح ہو حاضر در نوری بے پر شہا
ناکیں روکے دشمنوں نے راستہ ملتا نہیں