Back to Collection

Shahe Waala

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

پڑھُوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا

ہو جس سے قلب روشن جیسے مطلعِ مہرِ محشر کا

سرِ عرشِ علٰے پہنچا قدم جب میرے سرور کا

زبانِ قدسیاں پر شور تھا ’اللہ اکبر‘ کا

بنا عرشِ بریں مسند کفِ پائے منور کا

خدا ہی جانتا ہے مرتبہ سرکار کے سر کا

دو عالم صدقہ پاتے ہیں میرے سرکار کے در کا

اسی سرکار سے ملتا ہے جو کچھ ہے مقدر کا

بڑے دربار میں پہنچایا مجھ کو میری قسمت نے

مَیں صدقے جاؤں، کیا کہنا میرے اچھے مقدر کا

ہے خشک و تر پہ قبضہ جس کا وہ شاہِ جہاں یہ ہے

یہی ہے بادشاہ بر کا، یہی سلطاں سمندر کا

مٹّے ظلمت جہاں کی نور کا ترکہ ہو عالم میں

نقابِ روئے انور اے میرے خورشید اب سرکا

ضیا بخشی تیری سرکار کی عالم پہ روشن ہے

ماہ و خورشید صدقہ پاتے ہیں پیارے تیرے در کا

نگاہِ مہر سے اپنی بنایا مہر ذروں کو

الٰہی! نور دن دونا ہو مہرِ ذرہ پرور کا

طبق پر آسمان کے لکھتا میں نعتِ شاہِ والا

قلم اے کاش مل جاتا مجھے جبریل کے پر کا

مقابل ان کے ذرہ کے ذرا سا منھ نکل آیا

بہت شہرت سنا کرتے تھے ہم خورشید محشر کا

جمالِ حق نما دیکھیں، عیاں نورِ خدا پائیں

کلیم آئیں، ہٹا دیکھیں، ذرا پردہ تیرے در کا

نہ سایہ روح کا ہرگز نہ سایہ نور کا ہرگز

تو سایہ کیسا اس جانِ جہاں کے جسمِ انور کا

وہ آئینہ اگر دیکھیں، تو اپنے آپ کو دیکھیں

کہاں ہے آئینہ میں اور کوئی ان کے برابر کا

محالِ عقل ہے تیرا مماثل اے میرے سرور

توہّم کر نہیں سکتا ہے عاقل تیرے ہمسر کا

خدا شاہد، رضا کا آپ کی طالب خدا ہوگا

تعالیٰ اللہ رتبہ میرے حامی میرے یاور کا

دبا جاتا پیا جاتا ہوں میں آقا، دہائی ہے

یہ بھاری بوجھ عصیاں کا میرے سر کا ذرا سرکا

بجھے گی شربتِ دیدار ہی سے تشنگی اپنی

تمہاری دید کا پیاسا ہوں، یوں پیاسا ہوں کوثر کا

زباں پر جم گئے کانٹے ہے سارا حلق خشک اپنا

شہیدِ کربلا کا صدقہ، دو ایک جام کوثر کا

کمی کچھ بھی خزانے میں تمہاری ہو نہیں سکتی

تمہیں حق نے عطا فرما دیا جب چشمہ کوثر کا

جو آب و تابِ دندانِ منور دیکھ لوں نوری

میرا بحرِ سخن سر چشمہ ہو خوش آبِ گوہر کا