Back to Collection

Tera Jalwah Noor e Khuda Ghaus e Azam

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

تیرا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم

تیرا چہرہ ایماں فضا غوثِ اعظم

مجھے بے گماں دے گماں غوثِ اعظم

نہ پاؤں میں اپنا پتہ غوثِ اعظم

خودی کو مٹا دے خدا سے ملاؤ

دے ایسی فنا و بقا غوثِ اعظم

خودی کو گماؤں تو میں حق کو پاؤں

مجھے جامِ عرفاں پلا غوثِ اعظم

خدا ساز آئینۂ حق نما ہے

تیرا چہرۂ پر ضیاء غوثِ اعظم

خدا تو نہیں ہے مگر تو خدا سے

جدا بھی نہیں ہے ذرا غوثِ اعظم

نہ تو خود خدا ہے، نہ حق سے جدا ہے

خدا کی ہے تو شان یا غوثِ اعظم

تو باغِ علی کا ہے وہ پھول جس سے

دماغِ جہاں بس گیا غوثِ اعظم

تیرا مرتبہ کیوں نہ اعلیٰ ہو مولا

ہے محبوبِ ربُّ العلیٰ غوثِ اعظم

تیرا رتبہ اللہ اکبر سروں پر

قدم اولیاء نے لیا غوثِ اعظم

تیرا دامنِ پاک تھامے جو رہزن

بنے ہادی و رہنما غوثِ اعظم

نہ کیوں مہرباں ہو غلاموں پہ اپنے

کرم کی ہے تو کان یا غوثِ اعظم

تیرے صدقے جاؤں میری لاج رکھ لے

تیرے ہاتھ ہی لاج یا غوثِ اعظم

پریشان کر دے پریشانیوں کو

پریشان دل ہے میرا غوثِ اعظم

میری کشتی چکرا رہی ہے بھنور میں

میرے نا خدا بخدا غوثِ اعظم

خدا را سہارا، سہارا خدا را

تلاطم ہے حد سے سوا غوثِ اعظم

ارے مرے سیّاں پڑو ترے پیّاں

پکڑ مری بئیاں پیا غوثِ اعظم

خطائیں ہماری جو حد سے سوا ہیں

عطائے تیری ان سے سوا غوثِ اعظم

خطا کاریاں گر چہ حد سے بھی اپنی

سوا ہیں، سوا ہیں، سوا غوثِ اعظم

ہماری خطا کو تمہاری عطا سے

بھلا کوئی نسبت بھی یا غوثِ اعظم

تو رحم و کرم کا ہے بے پایاں دریا

یہ اک فردِ عصیاں ہے یا غوثِ اعظم

یہ اک فردِ عصیاں ہے کیا تیرے آگے

اگر لاکھوں سے ہوں سوا غوثِ اعظم

تیرا ایک ہی قطرہ دھو دے گا سارا

ہر اک صفحۂ پر خطا غوثِ اعظم

تو بے کس کا کس اور بے بس کا بس ہے

تواں ناتواںوں کی یا غوثِ اعظم

میری جان میں جان آئے جو آئے

میرا جانِ عالم میرا غوثِ اعظم

میری جان کیا جانِ ایماں ہو تازہ

کہ محییِ دینِ خدا غوثِ اعظم

میرا سر تیری کفش پا پر تصدق

وہ پا کے تو قابل ہے یا غوثِ اعظم

جھلک روئے انور کی اپنی دکھا کر

تو نوری کو نوری بنا غوثِ اعظم